حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دہلی/ ادارۂ تنظیم المکاتب کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی دینی تعلیمی سرگرمیوں کے سلسلے میں اوکھلا، جیت پور اور شاستری پارک میں مختلف پروگرام منعقد کئے گئے، جن میں علماء کرام اور ادارے کے ذمہ داران نے دینی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور عوام سے آنے والی 7 مئی سے شروع دینی تعلیمی کانفرنس میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔
اوکھلا کی مسجد مصطفیٰ میں منعقدہ مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم المکاتب کے سکریٹری مولانا سید صفی حیدر نے کہا کہ موجودہ دور میں ہر مسلمان پر دینی تعلیم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے، اور اسی مقصد کے تحت تنظیم المکاتب عوام کے لئے آسان اور مؤثر تعلیمی راستے فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کی جانب سے بچوں کے لئے ای مکتب، ای ٹیوشن اور مکتب نونہالان جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن کے ذریعے بچے گھر بیٹھے دینی تعلیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے تنظیم المکاتب کی مختلف دینی، تعلیمی اور تربیتی خدمات پر بھی روشنی ڈالی اور حاضرین کو 7 مئی سے شروع ہونے والی دینی تعلیمی کانفرنس کے بارے میں تفصیلی معلومات پیش کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں ہندوستان کے معروف و ممتاز علماء، شعراء اور مختلف صوبوں سے آنے والے ننھے بچے اپنے دینی و ثقافتی مظاہرے پیش کریں گے۔
اسی سلسلے میں دہلی کے علاقے اوکھلا میں دعوت دین اور تعلیمی بیداری کے مقصد سے علماء کرام کی ٹیم مختلف مقامات کا دورہ کر رہی ہے۔ تین سے چار علماء پر مشتمل یہ قافلہ مختلف امام بارگاہوں، مساجد اور عوامی اجتماعات میں مجالس اور تقریروں کے ذریعے لوگوں کو دین محمدی اور تعلیم اہل بیت سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس موقع پر مولانا علی مہذب خرد نے اپنے خطاب میں اہل بیت کی تعلیمات، دینی اقدار اور موجودہ دور کے اہم سماجی و فکری مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، اخلاق اور دین سے وابستگی ہی کامیاب معاشرے کی بنیاد ہے، لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دینی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔
اسی سلسلے میں جیت پور میں بھی ادارۂ تنظیم المکاتب کے خادمین نے عوامی رابطہ مہم کے تحت لوگوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ادارۂ تنظیم المکاتب کے نائب صدر مولانا سید صبیح الحسین صاحب نے مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم المکاتب کی نمایاں خدمات کو بیان کیا، اُسکے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک نورانی حدیث کی روشنی میں جسم اور روح کی کیفیتوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
مولانا نے فرمایا کہ اگر انسان اپنے فرائض کی ادائیگی سے غافل ہو جائے تو یہ روح کے سو جانے کی علامت ہے، اور اگر آپنے دینی و انسانی فرائض کی طرف متوجہ ہو تو یہ روح کے بیدار ہونے کی نشانی ہے۔
اسی قافلے کی ایک کڑی کے طور پر شاستری پارک، دہلی میں بھی دینی و تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جہاں علماء کرام نے قرآن و اہل بیت کی تعلیمات کی روشنی میں معاشرتی اصلاح اور دینی شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر مولانا غلام مہدی مولائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے فکری اور سماجی چیلنجز کے باوجود نوجوان نسل اگر علم، اخلاق اور تعلیمات اہل بیت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو معاشرہ مثبت تبدیلی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔
تمام پروگراموں میں مقامی افراد نے علماء کرام اور ادارہ تنظیم المکاتب کے ذمہ داران کا استقبال کیا اور اس طرح کی دینی و تعلیمی سرگرمیوں کو معاشرے کے لیے نہایت مفید قرار دیا۔ منتظمین کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا اور مزید علاقوں میں اسی طرح کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔









آپ کا تبصرہ